جارج سارٹن، اپنی کتاب ' سائنس کی تاریخ ' میں سائنسی کامیابیوں کو آدھی آدھی صدی کے زمانوں میں تقسیم کرتا ہے جس میں ہر آدھی صدی کے لیے کوئی ایک مرکزی شخصیت سامنے آتی ہے۔ اسکا یہ حساب 450 قبل مسیح سے شروع ہوتا ہے اور افلاطون ، ارسطو جیسی شخصیات کے بعد سو سالہ چینی عہد کا بیان ہے۔ انسان کی سائنسی کامیابیوں کے اس سلسلے میں 750ء تا 1100ء کا عہد یعنی لگ بھگ ساڑھے تین سو سال کا عرصۂ مستقل بلا کسی وقفے کے یکے بعد دیگرے آنے والے مسلم سائنسدانوں کے توسط سے جاری رہتا ہے۔ زوال کے آغاز کے بعد بھی فی الحقیقت پندرھویں صدی تک مسلم دنیا میں سائنس کا سلسلہ جاری رہا۔ پھر یہ سب کچھ یکسر ناپید کیوں ہوا؟ بیرونی حملہ آور طاقتیں؟ منگول تباہی؟ اندرونی تفرقے بازیاں؟ ذاتی شان و شوکت کے غلام حکمران؟ ان حکمرانوں کی جانب سے اعلٰی تعلیم سے لاپرواہی؟ مسلم قاضیوں اور علماء کی مذہب میں من مانی؟ مسلمانوں میں خود کو محدود اور الگ تھلگ رکھنے کے رجحان کا پیدا ہونا؟ محض وہ دنیاوی علم اہم قرار دینا جو دینی علم یا مذہب کے فائدے میں استمعال کیا جاسکے؟ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
ماخذ:- Renaissance of sciences in Islamic countries: Abdus Salam, H. R. Dalafi, Mohamed Hassan
اردو ویکیپیڈیا - جدید سائنسی مواد اردو میں منتقل کرنے کے لیے ایک عالمگیر دارالترجمہ !
دیوالی جو دیپاولی اور عید چراغاں کے ناموں سے بھی معروف ہے ایک قدیم ہندو تہوار(کہیں کہیں تیوہار بھی کہا جاتا ہے) ہے، جسے ہر سال موسم بہار میں منایا جاتاہے۔ یہ تہوار یا عید چراغان روحانی اعتبار سے اندھیرے پر روشنی کی، نادانی پر عقل کی، بُرائی پر اچھائی کی اور مایوسی پر اُمید کی فتح و کامیابی کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ اس تہوار کی تیاریاں 9 دن پہلے سے شروع ہوجاتی ہوتی ہیں اور دیگر رسومات مزید 5 دن تک جاری رہتی ہیں۔ اصل تہوار اماوس کی رات یا نئے چاند کی رات کو منایا جاتا ہے۔ یہ تہوار شمسی-قمری ہندو تقویم کے مہینہ کارتیک میں منایا جاتا ہے۔ گریگورین تقویم کے مطابق یہ تہوار وسط اکتوبر اور وسط نومبر میں واقع ہوتا ہے۔
دیوالی کی رات سے پہلے ہندو پیروکار گھروں کی مرمت، تزئین و آرائش، رنگ و روغن کرتے ہیں۔ دیوالی کی رات کو ہندو پیروکار نئے کپڑے پہنتے ہیں، دیے جلاتے ہیں، کہیں روشن دان، شمع اور کہیں مختلف شکلوں کے چراغ جلائے جاتے ہیں، یہ دیے گھروں کے اندر اور باہر، گلیوں میں بھی رکھے ہوتے ہیں۔ اور دولت اور خوشحالی کی دیوی لکشمی کی پوجا کی جاتی ہے، پٹاخے داغے جاتے ہیں، بعد میں سارے خاندان والے اجتماعی دعوتوں کا اہتمام کرتے ہیں، مٹھائیاں تقسیم کی جاتی ہیں۔ دوست احباب کو مدعو کیا جاتا ہے، تحفے تحائف تقسیم کیے جاتے ہیں۔ جہاں دیوالی منائی جاتی ہے وہاں دیوالی کو ایک بہتریں تجارتی موسم بھی کہا جاتا ہے۔
دیوالی ہندوؤں کا اہم تہوار ہی نہیں بلکہ اہم رسم یا رواج بھی ہے، اور بھارت کے علاقوں کی بنیاد پر اس کا دارومدار ہے۔ بھارت کے کئی علاقوں میں، یہ تہوار دھنتیراس سے شروع ہوتا ہے، ناراکا چتُردسی دوسرے دن منائی جاتی ہے، دیوالی تیسرے دن، چوتھے دن دیوالی پاڑوا شوہر بیوی کے رشتوں کے لیے وقف ہے، اور پانچواں دن بھاؤبیج بھائی بہن کے رشتوں لے ہے مخصوص ہے، اس سے یہ تہوار ختم ہوجاتا ہے۔ عام طور پر دھنتیراس، دسہرا کے اٹھارہ دن بعد واقع ہوتا ہے۔
جس رات کو ہندو دیوالی مناتے ہیں، اُسی رات کو جین پیروکار مہاویر کے موکش (نجات) پانے کی خوشی میں جشنِ چراغاں دیوالی مناتے ہیں، سکھ پیروکار اس تہوار کو بندی چھوڑ دیوس کے نام سے مناتے ہیں۔
For non-Urdu-speakers: If you have any comments or questions, you can leave a message in English HERE. See also, LOCAL URDU EMBASSY. If you are interested, see How to read Urdu script.
سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین کے علاوہ دس غیر مستقل اراکین بھی ہوتے ہیں جن کو جنرل اسمبلی دو دو سال کے لیے منتخب کرتی ہے۔(مزید)
کولہے کی ہڈیاں کسی ہڈی سے مشابہت نہیں رکھتیں اور بے قاعدہ انداز میں جڑی ہوئی ہوتی ہیں اور ان کا نام بھی کوئی نہیں ہوتا.(مزید)
ایڈز کی علامات ظاہر ہونے سے پہلے اس کا وائرس انسانی جسم میں کئی مہینوں یا برسوں تک رہ سکتا ہے۔(مزید)
ستمبر 1980ء میں جب عراق نے ایران پر حملہ کیا تو صدام حسین نے کہا تھا کہ وہ 3 دن میں تہران پر قبضہ کر لیں گے۔(مزید)
کرکٹ کا پہلا عالمی کپ 1975ء میں کھیلا گیا، ہر چار سال بعد یہ عالمی مقابلہ ہوتا ہے جبکہ خواتین کا کرکٹ عالمی کپ 1973ء سے کھیلا جا رہا ہے۔(مزید)
انڈونیشیا کے جنرل سہارتو نے جب اقتدار چھوڑا تو ان کی خفیہ دولت 35 بلین امریکی ڈالر تھی۔(مزید)
سولہویں صدی کے آخر تک یعنی 1564ء تک نیا سال مارچ کے آخر میں شروع ہوتا تھا۔(مزید)
اردو دائرہ المعارف پر Robot کے لیے اختیار کی جانے والی اصطلاح -- روبالہ -- کے بارے میں ایک فاضل ریاضیات و ماہر برقی ہندسیات کا تبصرہ۔
میں نے روبوٹ اور روبالہ پر آپ کا تجزیہ دیکھا ہے۔ مجھے یہ اصطلاح بے حد پسند آئی ہے۔ اگرچہ اس میں خودکار مشین اور روبوٹ کا فرق مکمل طور پر واضح نہیں ہوتا تاہم یہ نام صوتی طور پر اتنا عمدہ ہے کہ اگر آپ اجازت دیں تو میں مستقبل میں اپنے کسی تحقیقی کام کا نام روبالہ رکھنا چاہوں گا۔ اردو میں روبوٹ کی نسبت روبالہ کی مقبولیت میرے نزدیک کچھ مشکل ہے۔ تاہم آپ اس اصطلاح کو ضرور وکیپیڈیا پر متعارف کروائیں۔ محمد ابوبکر ۔ Masters of Mathematics and Ph.D in Electrical engineering
ویکیپیڈیا دنیا کی مختلف زبانوں میں بیک وقت شائع ہوتا ہے۔ اصل ویکیپیڈیا کا آغاز انگریزی میں 2001 (2001) میں ہوا۔ اردو ویکیپیڈیا فی الوقت 60,561 مضامین پر مشتمل ہے۔ بہت سے دیگر ویکیپیڈیا بھی موجود ہیں؛ جن میں سے کچھ بڑے ویکیپیڈیا درج ذیل ہیں: